افغانستان سے ایران تک
امریکی فوجی مداخلتیں، پاکستان کا اہم کردار اور بدلتا ہوا عالمی نظام
سوویت افغان جنگ سے افغانستان،
عراق اور ایران تک
تعارف
امریکہ کی فوجی مداخلتوں نے عالمی سیاست، علاقائی سلامتی اور کئی ممالک کے سیاسی حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سوویت افغان جنگ سے لے کر افغانستان اور عراق کی جنگوں، اور ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی تک، ان واقعات نے کئی اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔
ان سوالات میں جنگوں کے معاشی اخراجات، عالمی اتحادوں میں تبدیلی، خطے میں بدامنی اور فوجی طاقت کے طویل مدتی نتائج شامل ہیں۔
اگرچہ ہر جنگ کے حالات اور وجوہات مختلف تھیں، لیکن ان سے ایک اہم سبق ملتا ہے: فوجی کارروائی کسی فوری مقصد کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے اچھی حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور علاقائی تعاون بھی ضروری ہیں۔
پاکستان نے ان تمام حالات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد، خطے میں اپنی جغرافیائی اہمیت اور امریکہ کے ساتھ مختلف ادوار میں تعلقات کی وجہ سے پاکستان عالمی سیاست میں ایک اہم ملک رہا ہے۔
اس مضمون میں ان تاریخی واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں ثابت شدہ حقائق، مختلف اندازوں اور سیاسی تجزیوں کے درمیان فرق رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
1۔ سوویت افغان جنگ اور مجاہدین
دسمبر 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجیں داخل کیں۔ اس واقعے نے افغانستان کو سرد جنگ کا ایک اہم میدان بنا دیا۔
اس وقت امریکہ، پاکستان، سعودی عرب اور بعض دوسرے ممالک نے سوویت افواج کے خلاف لڑنے والے افغان مزاحمتی گروہوں کی مالی، فوجی اور دیگر مدد کی۔ ان گروہوں کو مجموعی طور پر مجاہدین کہا جاتا تھا۔
پاکستان نے اس جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نے مزاحمتی گروہوں تک امداد پہنچانے میں مدد دی اور لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ فراہم کی۔
1989 میں سوویت افواج افغانستان سے واپس چلی گئیں، لیکن اس کے بعد ملک میں مستقل امن قائم نہ ہو سکا۔ مختلف افغان گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی اور افغانستان طویل خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔
اس جنگ سے یہ سبق ملتا ہے کہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کے اثرات غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد بھی کئی سال تک جاری رہ سکتے ہیں۔
2۔ پاکستان: ایک اہم اتحادی اور طویل مدتی مشکلات
افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے اسے امریکہ اور دوسرے ممالک کی طرف سے فوجی امداد، معاشی تعاون اور سفارتی حمایت حاصل ہوئی۔ لیکن یہ تعلقات زیادہ تر اس وقت کی عالمی سیاسی اور سکیورٹی ضروریات سے متاثر ہوتے رہے۔
سوویت افواج کی واپسی کے بعد امریکہ کی ترجیحات تبدیل ہو گئیں۔
1990 کی دہائی کے آغاز میں پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی خدشات کے باعث پریسلر ترمیم کے تحت امریکی امداد پر پابندیاں لگیں۔ اس قانون کے تحت پاکستان کو مطلوبہ امریکی صدارتی تصدیق حاصل نہ ہونے کی وجہ سے امداد محدود کر دی گئی۔
پاکستان کے بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بدلتی ہوئی سیاسی ترجیحات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کو اس دور اور اس کے بعد کئی اندرونی مسائل کا بھی سامنا رہا، جن میں شامل تھے:
- افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کی دیکھ بھال۔
- غیر قانونی اسلحے کی خرید و فروخت۔
- منشیات کی اسمگلنگ۔
- شدت پسند گروہوں کا پھیلاؤ۔
- اندرونی سلامتی کے مسائل میں اضافہ۔
ان مسائل کی وجوہات مختلف تھیں اور ان پر اندرونی حالات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی واقعات کا بھی اثر پڑا۔
اس تجربے سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بڑی جنگ میں حصہ لینے سے وقتی فائدے تو حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہوتی ہے۔
3۔ امریکہ اور پاکستان پر جنگوں کے معاشی اثرات
امریکہ کے معاشی اخراجات
افغانستان، عراق اور دہشت گردی کے خلاف دیگر فوجی کارروائیوں پر امریکہ نے بہت بڑی رقم خرچ کی۔
مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگوں کے مجموعی اخراجات کھربوں ڈالر تک پہنچے، خاص طور پر جب فوجی اخراجات کے ساتھ سابق فوجیوں کی دیکھ بھال، تعمیر نو اور قرضوں پر سود کو بھی شامل کیا جائے۔
ان اخراجات کی وجہ سے امریکہ میں کئی اہم بحثیں سامنے آئیں، مثلاً:
- وفاقی قرضوں میں اضافہ۔
- سرکاری بجٹ پر دباؤ۔
- تعلیم، صحت اور دیگر ملکی ضروریات کے لیے دستیاب وسائل کا سوال۔
- طویل بیرونی جنگوں کے بارے میں عوامی بے چینی۔
تاہم امریکہ کے تمام معاشی مسائل کو صرف ان جنگوں سے منسوب کرنا درست نہیں۔ اس کی معیشت پر دوسرے عوامل کا بھی اثر پڑتا ہے۔
پاکستان کے معاشی اخراجات
پاکستان نے بھی افغان جنگ اور بعد میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بھاری قیمت ادا کی۔
اس کے اثرات میں شامل ہیں:
- بنیادی ڈھانچے کو نقصان۔
- لوگوں کی نقل مکانی۔
- تجارت اور سیاحت میں رکاوٹیں۔
- فوجی اور سکیورٹی اخراجات میں اضافہ۔
- شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا نقصان۔
- مقامی معیشت اور روزگار پر منفی اثرات۔
پاکستانی حکومتیں مختلف ادوار میں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ دہشت گردی اور اس کے خلاف کارروائیوں سے ہونے والے معاشی نقصانات بین الاقوامی امداد سے کہیں زیادہ تھے۔
تاہم ان نقصانات کا درست اندازہ لگانے کے لیے مختلف ادوار، طریقۂ حساب اور قابل اعتماد اعداد و شمار کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
منصفانہ جائزے میں امریکہ اور دوسرے ممالک سے ملنے والی امداد کے ساتھ پاکستان کے عوام، معیشت اور اداروں پر پڑنے والے وسیع اثرات کو بھی شامل کرنا چاہیے۔
4۔ مجاہدین سے طالبان تک کا سفر
مجاہدین اور طالبان کو ایک ہی تنظیم سمجھنا تاریخی طور پر درست نہیں۔
مجاہدین میں کئی افغان گروہ شامل تھے جو 1980 کی دہائی میں سوویت افواج کے خلاف لڑے۔ سوویت افواج کی واپسی کے بعد ان گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی، جس سے خانہ جنگی اور بدامنی میں اضافہ ہوا۔
طالبان تحریک 1990 کی دہائی کے وسط میں سامنے آئی۔ اس میں دینی مدارس کے طلبہ اور سابق جنگجو شامل تھے، اگرچہ تمام افراد کا پس منظر ایک جیسا نہیں تھا۔
طالبان نے 1996 میں کابل پر قبضہ کر لیا اور افغانستان کے بڑے حصے پر اپنی حکومت قائم کی۔
بہت سے مؤرخین اور تجزیہ کار طالبان کے عروج کی وجوہات میں خانہ جنگی، کمزور حکومتی اداروں، علاقائی رقابتوں اور جنگ کے بعد قابل قبول سیاسی نظام قائم نہ ہونے کو اہم سمجھتے ہیں۔
اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جنگ کے بعد ملک کی تعمیر نو اور سیاسی نظام کو مستحکم کرنا بھی جنگ جتنا اہم ہو سکتا ہے۔ اگر ادارے کمزور رہیں اور سیاسی اختلافات حل نہ ہوں تو مسلح گروہوں کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
5۔ نائن الیون حملے اور افغانستان کی جنگ
11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں نے عالمی سلامتی کی پالیسیوں کو بدل دیا۔
امریکہ نے ان حملوں کا ذمہ دار القاعدہ کو قرار دیا۔ اس وقت القاعدہ کی قیادت افغانستان میں طالبان حکومت کے دور میں موجود تھی۔
طالبان حکومت کی جانب سے اسامہ بن لادن کے معاملے پر امریکی مطالبات پورے نہ ہونے کے بعد امریکہ نے اکتوبر 2001 میں افغانستان میں فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اسے نیٹو کے اتحادیوں سمیت دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔
ان کارروائیوں کے اہم مقاصد یہ تھے:
- القاعدہ کی سرگرمیوں کو روکنا۔
- طالبان حکومت کو اقتدار سے ہٹانا۔
- افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کے مرکز کے طور پر استعمال ہونے سے روکنا۔
یہ جنگ بعد میں امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ بن گئی۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں بڑی فوجی اور مالی سرمایہ کاری کی، لیکن اگست 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آ گئے۔
اس نتیجے نے کئی سوالات پیدا کیے، جن میں حکومتی اداروں کی مضبوطی، سیاسی حمایت، ریاستی نظام کی تعمیر اور فوجی طاقت کی حدود شامل ہیں۔
6۔ عراق، داعش اور علاقائی بدامنی
امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا۔ اس وقت امریکی حکومت نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور سکیورٹی خطرات سے متعلق خدشات پیش کیے تھے۔
بعد کی تحقیقات میں ان ہتھیاروں کے ایسے فعال ذخائر نہیں ملے جنہیں جنگ سے پہلے پیش کیے گئے مؤقف کا بنیادی جواز بنایا گیا تھا۔
صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں طویل بدامنی، سیاسی تشدد اور حکومتی اداروں کی کمزوری پیدا ہوئی۔
اسی دور میں عراق میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس نے ترقی کی، اور بعد میں شام کی خانہ جنگی کے دوران داعش نامی تنظیم نے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
داعش کے عروج کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
- عراق میں سیاسی اور انتظامی خلا۔
- فرقہ وارانہ کشیدگی۔
- کمزور حکمرانی۔
- شام کی خانہ جنگی۔
- پہلے سے موجود شدت پسند نیٹ ورکس۔
بعد میں بین الاقوامی اتحاد اور مقامی فورسز نے داعش کے زیر قبضہ بڑے علاقوں کو واپس حاصل کر لیا۔ تاہم اس تنظیم کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی بدامنی اور کمزور ادارے شدت پسند تنظیموں کے لیے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
عراق کا تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جنگ کے بعد مؤثر منصوبہ بندی، سب کو ساتھ لے کر چلنے والا سیاسی نظام اور دیرپا سلامتی کیوں ضروری ہیں۔
7۔ عراق اور ایران: مختلف حالات اور چیلنجز
اگرچہ عراق اور ایران دونوں کے امریکہ کے ساتھ اختلافات اور تصادم کی تاریخ رہی ہے، لیکن دونوں ممالک کے حالات ایک جیسے نہیں ہیں۔
2003 کے حملے سے پہلے عراق کئی سال کی پابندیوں، فوجی شکست اور عالمی تنہائی کا سامنا کر چکا تھا۔
اس کے مقابلے میں ایران کی آبادی بڑی ہے، ریاستی ادارے مضبوط ہیں، میزائل صلاحیتیں موجود ہیں اور خطے میں اس کے مختلف شراکت دار ہیں۔
اس لیے عراق کے تجربے کو ایران پر براہ راست لاگو کرنا درست نہیں ہوگا۔
ایران کے ساتھ طویل فوجی تصادم پورے خطے کی سلامتی، توانائی کی قیمتوں، سمندری تجارت اور پڑوسی ممالک پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ان اثرات کی شدت کا انحصار جنگ کے دورانیے، کارروائیوں کی نوعیت، دوسرے ممالک کے ردعمل اور سفارتی حل کے امکانات پر ہوگا۔
اسی لیے ایران سے متعلق کسی بھی تنازعے کا جائزہ لیتے وقت قابل اعتماد معلومات استعمال کرنا اور ثابت شدہ حقائق کو اندازوں اور سیاسی دعووں سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
8۔ نیٹو اور عالمی اتحادوں میں تبدیلیاں
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نیٹو ایک اہم فوجی اتحاد کے طور پر برقرار رہا ہے۔ تاہم اس کے رکن ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
ان میں شامل ہیں:
- دفاعی اخراجات۔
- روس کے ساتھ تعلقات۔
- مشرق وسطیٰ کی پالیسی۔
- تجارت اور معاشی مفادات۔
- رکن ممالک کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم۔
مختلف ممالک کا امریکی پالیسی سے اختلاف کرنا لازمی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں کہ نیٹو ٹوٹ رہا ہے یا اس کے ارکان امریکہ سے تعلقات ختم کر رہے ہیں۔
نیٹو کی مضبوطی کا انحصار مشترکہ دفاعی مقاصد، باہمی مشاورت، ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت پر ہے۔
بڑے عالمی اتحاد مستقل ایک جیسے نہیں رہتے۔ وقت کے ساتھ ممالک اپنی سلامتی، معاشی مفادات اور سیاسی ترجیحات کے مطابق اپنی پالیسیاں تبدیل کرتے ہیں۔
9۔ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور فوجی مداخلتوں پر بحث
ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ادوار میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ کو طویل بیرونی جنگوں میں اپنی شمولیت کم کرنی چاہیے اور اتحادی ممالک کو اپنے دفاع کے لیے زیادہ ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔
ان کے حامیوں کے مطابق اس پالیسی کا مقصد ملکی ضروریات کو ترجیح دینا، اخراجات پر قابو پانا اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا تھا۔
دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض فوجی کارروائیاں اور مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں سے متعلق فیصلے بیرونی جنگوں سے دور رہنے کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
اس بحث کو سمجھنے کے لیے چند باتوں میں فرق کرنا ضروری ہے: جنگ ختم کرنا، فوجیوں کی تعداد کم کرنا، محدود فوجی کارروائی کرنا اور سفارتی معاہدہ کرنا الگ الگ اقدامات ہیں۔
کسی حکومت کی پالیسی کا درست جائزہ اس کے سرکاری بیانات، عملی فیصلوں اور قابل تصدیق واقعات کی بنیاد پر لینا چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی دعووں یا اندازوں پر۔
10۔ چار دہائیوں کی جنگوں سے حاصل ہونے والے سبق
افغانستان، عراق اور ایران سے متعلق کشیدگی کے تجربات سے چند اہم سبق سامنے آتے ہیں:
-
فوجی کامیابی مستقل امن کی ضمانت نہیں۔ دیرپا امن کے لیے قابل اعتماد ادارے اور قابل قبول سیاسی حل ضروری ہیں۔
-
جنگ کے بعد کی منصوبہ بندی اہم ہے۔ کمزور حکمرانی اور طویل بدامنی مسلح اور شدت پسند گروہوں کو مضبوط ہونے کا موقع دے سکتی ہے۔
-
علاقائی ممالک کا کردار اہم ہوتا ہے۔ پڑوسی ممالک اور علاقائی طاقتیں تنازعے کو بڑھانے یا مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
-
جنگ کے اخراجات فوجی بجٹ تک محدود نہیں ہوتے۔ تعمیر نو، نقل مکانی، سابق فوجیوں کی دیکھ بھال، معاشی نقصان اور سلامتی کی ضروریات طویل مدتی بوجھ پیدا کرتی ہیں۔
-
سفارت کاری ضروری ہے۔ مذاکرات، عالمی تعاون اور حقیقت پسندانہ سیاسی مقاصد جنگ کے خطرات کم کر سکتے ہیں۔
-
بین الاقوامی شراکت داری میں تسلسل ضروری ہے۔ ممالک کو صرف وقتی سیاسی ضرورتوں کے بجائے واضح مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعاون کرنا چاہیے۔
نتیجہ
سوویت افغان جنگ سے لے کر افغانستان اور عراق کی جنگوں، اور ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی تک، عالمی واقعات نے بار بار یہ ظاہر کیا ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے مستقل سیاسی نتائج حاصل کرنا آسان نہیں۔
پاکستان نے اس تاریخ میں مختلف کردار ادا کیے ہیں۔ وہ سرد جنگ کے دوران ایک اہم اتحادی رہا، نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں شراکت دار بنا، افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا رہا اور ایک ایسے علاقائی ملک کے طور پر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کرتا رہا جس کے لیے سلامتی اور معاشی ترقی دونوں اہم ہیں۔
طالبان کے عروج، داعش کے پھیلاؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری بدامنی سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی مداخلتوں کے نتائج بعض اوقات ان کے ابتدائی مقاصد سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہر تنازعے کی اپنی وجوہات اور حالات ہوتے ہیں، اس لیے ہر واقعے کا جائزہ الگ اور قابل اعتماد شواہد کی بنیاد پر لینا چاہیے۔
جیسے جیسے عالمی طاقت کا توازن متعدد ممالک کے درمیان تقسیم ہو رہا ہے، مستقل امن کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں ہوگی۔ سفارت کاری، علاقائی تعاون، اچھی حکمرانی، معاشی استحکام اور بین الاقوامی قانون کا احترام بھی اہم ہوں گے۔
پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی شراکت داروں سے تعمیری تعلقات قائم رکھے اور امن، معاشی ترقی اور عوامی فلاح کو ترجیح دے۔
سب سے اہم سبق یہ ہے کہ فوجی طاقت حالات کو تبدیل کر سکتی ہے، لیکن مستقل امن کے لیے ایسے سیاسی حل ضروری ہیں جو تنازعات کی بنیادی وجوہات کو دور کریں۔
مصنف کی وضاحت اور دستبرداری
مصنف: محمد اسرار
یہ مضمون تاریخی واقعات، عالمی تعلقات اور علاقائی سلامتی کے بارے میں میری ذاتی تحقیق، رائے اور تجزیے پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد تعلیمی معلومات فراہم کرنا اور عوامی سطح پر سنجیدہ بحث کو فروغ دینا ہے۔ یہ کسی حکومت، سیاسی جماعت یا ادارے کا سرکاری مؤقف نہیں ہے۔
میں نے کوشش کی ہے کہ تاریخی حقائق، متنازع دعووں، مالی اندازوں اور سیاسی تجزیوں میں فرق رکھا جائے۔ مختلف ذرائع میں مالی اعداد و شمار اور واقعات کی تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ حالیہ یا جاری تنازعات کے بارے میں نئی قابل اعتماد معلومات سامنے آنے پر تجزیے میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔
اس مضمون کا مقصد قارئین میں تحقیق، تنقیدی سوچ، پرامن عالمی تعلقات اور فوجی مداخلتوں کے نتائج کو سمجھنے کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس میں کسی قوم، مذہب، برادری یا عوام کے خلاف نفرت پھیلانا مقصود نہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ زیر بحث معاملات کو سمجھنے کے لیے مستند تاریخی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور آزاد تحقیقی ذرائع سے بھی رجوع کریں۔
مزید مطالعے کے لیے
قارئین مزید معلومات کے لیے درج ذیل ذرائع سے رجوع کر سکتے ہیں:
- افغانستان اور عراق کے بارے میں امریکی کانگریس کی تحقیقی رپورٹس۔
- امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اور پریسلر ترمیم سے متعلق تحقیقی مواد۔
- سوویت افغان جنگ اور طالبان کے عروج پر تاریخی تحقیقات۔
- داعش اور جنگ کے بعد حکومتی نظام کی تعمیر سے متعلق مستند تحقیقی اداروں کی رپورٹس۔
- امریکی خارجہ پالیسی، نیٹو اور ایران سے متعلق واقعات پر معتبر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹنگ۔

Comments
Post a Comment