پاکستان-کے-آبی-نظام-کا-ازسرِ-نو-جائزہ:

 

بین الصوبائی آبی انصاف


 منصفانہ اور پائیدار تقسیم کی جانب ایک عملی راستہ

سائنسی تحقیق، آئینی اصولوں اور صوبائی تعاون 

کی بنیاد پر پاکستان کے آبی نظام کا جائزہ

پاکستان-کے-آبی-نظام-کا-ازسرِ-نو-جائزہ:


تعارف

پانی زندگی، زراعت، توانائی، غذائی تحفظ اور قومی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان کا دریائے سندھ کا نظام لاکھوں افراد کی ضروریات پوری کرتا ہے اور ملکی معیشت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

1991ء کے واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ (آبی تقسیم کے معاہدے) نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے ایک متفقہ نظام فراہم کیا۔ تاہم آبادی میں اضافے، موسمیاتی تبدیلی، زیرِ زمین پانی کی کمی اور زرعی ضروریات میں تبدیلی نے ملک کے آبی وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ایک صوبے کو فائدہ پہنچانے کے لیے دوسرے صوبے کو نقصان اٹھانا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ آبی نظام کو کس طرح بہتر بنا سکتا ہے تاکہ موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پوری ہوں، جبکہ پہلے سے موجود معاہدوں اور آئینی طریقۂ کار کا احترام بھی برقرار رہے۔

1۔ خیبر پختونخوا: آبی وسائل اور مقامی ترقی

خیبر پختونخوا پاکستان کے دریائی نظام اور پن بجلی کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تربیلا ڈیم سمیت بڑے آبی منصوبے ملک کی بجلی کی ضروریات اور مجموعی معاشی ترقی میں حصہ ڈالتے ہیں۔

اس صوبے کے اہم خدشات میں بڑے آبی منصوبوں کے سماجی اور ماحولیاتی اثرات، پانی کے بہاؤ کی شفاف پیمائش اور آئینی طور پر واجب الادا نیٹ ہائیڈل منافع کی بروقت ادائیگی شامل ہیں۔

ایک منصفانہ قومی پالیسی کو یقینی بنانا چاہیے کہ ڈیموں اور پن بجلی کے منصوبوں سے متاثر ہونے والی آبادیوں کو مناسب ترقیاتی سہولتیں ملیں۔ تعلیم، صحت، روزگار، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی بنیادی ڈھانچے کی بہتری طویل مدتی منصوبہ بندی کا حصہ ہونی چاہیے۔

تاہم کسی صوبے میں آبی وسائل یا بڑا ڈیم موجود ہونے سے پانی کے تمام حقوق خودبخود طے نہیں ہو جاتے۔ پانی کی تقسیم، پن بجلی کے فوائد، معاوضے اور آئینی مالی حقوق باہم متعلق ضرور ہیں، لیکن یہ الگ الگ معاملات ہیں، جن کا جائزہ متعلقہ قانونی اصولوں کے مطابق لیا جانا چاہیے۔

2۔ بلوچستان: پانی کی قلت اور مستقبل کی ضروریات

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے متعدد اضلاع کو پانی کی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خشک سالی، بارشوں میں بے قاعدگی اور زیرِ زمین پانی کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے مقامی آبادی، زراعت اور روزگار متاثر ہوتے ہیں۔

مستقبل کی آبی منصوبہ بندی میں صرف تاریخی زرعی ضروریات کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔ پینے کے پانی کی طلب، زیرِ زمین پانی کی صورتِ حال، آبادی، موسمیاتی خطرات، زرعی امکانات اور ماحولیاتی ضروریات کے قابلِ اعتماد اعدادوشمار کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی نئے فارمولے کے ذریعے صوبائی حقوق یا پانی کی تقسیم کو اتفاقِ رائے اور قانونی طریقۂ کار کے بغیر تبدیل کر دیا جائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں پانی کی منصفانہ اور پائیدار تقسیم پر سنجیدہ، سائنسی اور حقائق پر مبنی بحث کی جائے۔

3۔ پنجاب اور سندھ: موجودہ حقوق اور ماحولیاتی ضروریات کا تحفظ

پنجاب کا وسیع نہری نظام اس کی زرعی معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ اس لیے کسی بھی اصلاح میں زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور کسانوں کے روزگار کی اہمیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب سندھ کو دریائے سندھ کے نچلے حصے میں پانی کی دستیابی، آبپاشی کی ضروریات اور انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق طویل عرصے سے خدشات لاحق ہیں۔ دریائے سندھ میں مناسب مقدار میں میٹھے پانی کا بہاؤ ان ماحولیاتی نظاموں اور مقامی آبادیوں کے لیے اہم ہے جن کا انحصار دریا پر ہے۔

ان خدشات کو اس انداز میں پیش نہیں کرنا چاہیے کہ ایک صوبے کے فائدے کے لیے دوسرے صوبے کو لازماً نقصان اٹھانا پڑے۔ ایک پائیدار قومی پالیسی میں زرعی ضروریات، دریائی ماحول، پینے کے پانی اور پورے دریائی نظام کی طویل مدتی صحت کو متوازن انداز میں دیکھنا ہوگا۔

4۔ کیا 1991ء کے آبی معاہدے پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے؟

1991ء کا آبی معاہدہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے ایک متفقہ بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس پر کسی بھی نظرِ ثانی کا آغاز اس کی اصل شرائط، عمل درآمد، متعلقہ قانونی فیصلوں اور صوبوں کے خدشات کے محتاط جائزے سے ہونا چاہیے۔

آبادی میں اضافہ، بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز، پانی کی قلت اور زیرِ زمین پانی کی کمی، آبی انتظام کو بہتر بنانے کی اہم وجوہات ہیں۔ تاہم نئے حسابات یا فارمولوں کو پہلے سے موجود معاہدوں یا قانونی حقوق کو یک طرفہ طور پر نظرانداز کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ایک عملی جائزے میں تین الگ سوالات پر غور ہونا چاہیے:

  • پانی کا قانونی حق: موجودہ معاہدے میں کیا طے کیا گیا ہے اور اس پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے؟
  • پانی کی حقیقی دستیابی: موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے تحت مختلف اوقات میں حقیقتاً کتنا پانی دستیاب ہے؟
  • وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد: قانونی طور پر تسلیم شدہ مالی فوائد، معاوضے اور ترقیاتی سہولتیں کس طرح منصفانہ انداز میں فراہم کی جائیں؟

ان سوالات کو الگ الگ سمجھنے سے غلط فہمیاں کم ہوں گی اور صوبوں کے درمیان مذاکرات زیادہ مؤثر بن سکیں گے۔

5۔ دنیا کے آبی نظاموں سے حاصل ہونے والے اسباق

مشترکہ دریاؤں کے انتظام کے لیے مختلف ممالک نے تعاون، ماحولیاتی تحفظ، معلومات کے تبادلے اور تنازعات کے حل کے مختلف طریقے اختیار کیے ہیں۔

ان میں میکونگ ریور کمیشن، سینیگال ریور بیسن ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور آسٹریلیا کے مرے۔ڈارلنگ بیسن کے انتظامی نظام شامل ہیں۔ یہ مثالیں مشترکہ منصوبہ بندی، قابلِ اعتماد اعدادوشمار اور مختلف ضروریات میں توازن پیدا کرنے کے حوالے سے مفید اسباق فراہم کرتی ہیں۔

تاہم پاکستان کسی دوسرے ملک کا نظام جوں کا توں اختیار نہیں کر سکتا۔ اسے اپنے آئین، 1991ء کے معاہدے، صوبائی حالات اور موجودہ اداروں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

6۔ پاکستان کے لیے عملی اصلاحات

پاکستان کی قومی آبی پالیسی میں ایسی اصلاحات شامل ہونی چاہئیں جن پر عملی طور پر عمل کیا جا سکے اور جن کے نتائج کا آزادانہ جائزہ بھی ممکن ہو۔

پہلا قدم: پانی کی شفاف نگرانی۔ جدید نظام کے ذریعے دریاؤں کے بہاؤ، نہروں سے پانی کے اخراج، آبی ذخائر کی سطح اور موسمی تبدیلیوں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ تمام صوبوں کو قابلِ اعتماد اور یکساں معیار کے اعدادوشمار تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

دوسرا قدم: آزادانہ سائنسی جائزہ۔ آبی انجینئرز، ماہرینِ آب شناسی، زرعی ماہرین اور ماحولیاتی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم پانی کی موجودہ دستیابی، ضیاع اور مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لے۔

تیسرا قدم: آبپاشی کے نظام میں بہتری۔ نہروں کی مناسب دیکھ بھال، موزوں جدید آبپاشی طریقوں اور کسانوں کی رہنمائی کے ذریعے پانی کے غیر ضروری ضیاع کو کم کیا جا سکتا ہے۔

چوتھا قدم: زیرِ زمین پانی کا تحفظ۔ ضرورت سے زیادہ پانی نکالنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مقامی حالات کے مطابق نگرانی، بچت اور زیرِ زمین پانی کے انتظام کے منصوبے بنائے جائیں۔

پانچواں قدم: دریاؤں کے ماحولیاتی بہاؤ کا تحفظ۔ قومی منصوبہ بندی میں زراعت اور شہری ضروریات کے ساتھ دریاؤں، آبی حیات، دلدلی علاقوں اور انڈس ڈیلٹا کی ماحولیاتی صحت کو بھی اہمیت دی جائے۔

چھٹا قدم: خشک سالی سے نمٹنے کی تیاری۔ صوبے پانی کی قلت، موسمیاتی ہنگامی صورتِ حال اور پینے کے پانی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے مشترکہ منصوبے بنائیں۔

ساتواں قدم: باقاعدہ آڈٹ اور عوامی رپورٹیں۔ شائع ہونے والی رپورٹوں میں پانی کی دستیابی، ریکارڈ شدہ تقسیم، پیمائش کے طریقوں اور طے شدہ مقدار اور حقیقی فراہمی کے درمیان فرق کی وجوہات واضح کی جائیں۔

7۔ آبی منصوبوں کے فوائد کی منصفانہ تقسیم

بڑے ڈیم اور پن بجلی کے منصوبے قومی سطح پر فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن ان کے قریب رہنے والی آبادیوں کو نقل مکانی، ماحولیاتی تبدیلیوں اور مقامی سہولتوں پر اضافی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

ایک منصفانہ پالیسی میں صوبوں کے پانی کے حقوق اور قدرتی وسائل کے منصوبوں سے حاصل ہونے والے مالی یا ترقیاتی فوائد کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے۔

جہاں آئین یا متعلقہ معاہدوں کے تحت معاوضہ، رائلٹی، نیٹ ہائیڈل منافع یا دیگر ادائیگیاں واجب الادا ہوں، وہاں ان کا حساب شفاف طریقے سے کیا جائے اور قانون کے مطابق بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ متاثرہ اضلاع میں اسکولوں، اسپتالوں، روزگار، سڑکوں اور ماحولیاتی بحالی کے لیے خصوصی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے یا نہیں۔

ایسی امداد اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم سیاسی اثرورسوخ کے بجائے شفاف اور منصفانہ معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔

8۔ آئینی اداروں کو مضبوط بنانا

آبی مسائل کا مستقل حل پاکستان کے موجودہ آئینی اداروں کے ذریعے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔

کونسل آف کامن انٹرسٹ (CCI) یعنی مشترکہ مفادات کونسل کو اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں آنے والے معاملات حل کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ صوبائی خدشات کو قانونی طریقۂ کار، قابلِ اعتماد شواہد اور بامعنی مشاورت کے ذریعے زیرِ غور لایا جانا چاہیے۔

اس عمل میں معاونت کے لیے ایک تکنیکی جائزہ کمیٹی قائم کی جا سکتی ہے، جس میں صوبوں کے نمائندوں کے ساتھ آزاد ماہرین بھی شامل ہوں۔ اس کمیٹی کے اختیارات واضح ہوں، اس کی رپورٹیں عوام کے لیے دستیاب ہوں اور اس کی سفارشات آئین اور موجودہ قانونی ذمہ داریوں کے مطابق ہوں۔

آبی تقسیم کے متفقہ نظام میں کسی بھی تبدیلی کے لیے متعلقہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا اور تمام صوبوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔

کسی بھی صوبے سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات اور خدشات کو نظرانداز کرتے ہوئے کوئی بڑی تبدیلی قبول کر لے۔ ہر تجویز کی قانونی بنیاد، ممکنہ اثرات اور متاثرہ آبادیوں کے تحفظ کے اقدامات شفاف انداز میں واضح کیے جانے چاہئیں۔

نتیجہ: تعاون کے ذریعے آبی انصاف

پاکستان کے آبی مسائل کا حل صوبائی مفادات کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے میں نہیں، بلکہ مشترکہ منصوبہ بندی اور منصفانہ انتظام میں ہے۔

پنجاب کی زرعی ضروریات، سندھ کے زیریں علاقوں اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خدشات، خیبر پختونخوا کا آبی وسائل اور پن بجلی میں کردار، اور بلوچستان میں پانی کی شدید قلت—ان تمام معاملات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پانی کی نگرانی شفاف بنائی جائے، قانونی حقوق کا تحفظ ہو، پانی کا ضیاع کم کیا جائے، زیرِ زمین ذخائر محفوظ رہیں اور آبی منصوبوں کے فوائد و نقصانات کو منصفانہ انداز میں دیکھا جائے۔

1991ء کے آبی معاہدے پر کسی بھی نظرِ ثانی کی بنیاد سائنسی شواہد، آئینی اصولوں اور بامعنی بین الصوبائی مشاورت پر ہونی چاہیے۔ اسے یک طرفہ فیصلوں یا کسی صوبے کے خلاف غیر ثابت شدہ دعووں کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔

آبی انصاف کا مطلب ہے متفقہ اصولوں کے تحت منصفانہ سلوک، مشترکہ وسائل کا شفاف انتظام اور آنے والی نسلوں کے لیے ذمہ دارانہ منصوبہ بندی۔

باہمی تعاون اور عوامی احتساب کو مضبوط بنا کر پاکستان ایسا آبی نظام تشکیل دینے کی جانب بڑھ سکتا ہے جو صوبوں کے درمیان اعتماد، قومی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دے۔


مصنف کی وضاحتی عبارت (Disclaimer)

مصنف: محمد اسرار

یہ مضمون پاکستان میں بین الصوبائی آبی انتظام، وسائل کی تقسیم اور آئینی نظام کے بارے میں میری ذاتی رائے اور تجزیے پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد معلوماتی، تعلیمی اور عوامی مفاد کے لیے بحث کو فروغ دینا ہے۔ یہ کسی حکومت، سیاسی جماعت یا سرکاری ادارے کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتا۔

اس مضمون میں پیش کی گئی تجاویز کا مقصد پُرامن مکالمے، شفاف فیصلہ سازی اور شواہد پر مبنی پالیسی اصلاحات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ صوبائی خدشات کے حوالے سے دی گئی باتوں کو کسی صوبے یا فرد کے خلاف ثابت شدہ قانونی فیصلے یا الزامات نہ سمجھا جائے۔ پانی کے حقوق، مالی دعووں اور آئینی ذمہ داریوں کا تعین متعلقہ معاہدوں، سرکاری ریکارڈ، مستند شواہد اور نافذالعمل قانون کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔

اس مضمون کا مقصد انصاف، تعاون اور پائیدار آبی انتظام کو فروغ دینا ہے۔ اس کا مقصد کسی فرد، ادارے یا صوبے کی بدنامی کرنا نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Presidential-System-can-prevail-with-framework

دنیا کی تاریخ میں انقلابات

The Asymmetric Trap